ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لال قلعہ ’’گود ‘‘ لینے کا معاملہ , حکومت پر برسی کانگریس ، پوچھا کو ن سی ہوگی اگلی عمارت

لال قلعہ ’’گود ‘‘ لینے کا معاملہ , حکومت پر برسی کانگریس ، پوچھا کو ن سی ہوگی اگلی عمارت

Sun, 29 Apr 2018 00:53:35    S.O. News Service

نئی دہلی، 28؍اپریل (ایس او نیوز؍ایجنیسی) ’’اپنی دھروہر اپنی پہچان ‘‘ پروجکٹ (اڈوپٹ اے ہریٹیج ) کے تحت لال قلعہ ملک کی پہلی ایسی تاریخی عمارت بن گئی ہے جسے گود لیا گیا ہے۔ 77 سال پرانی ڈالمیابھارت گروپ نے انڈگو ائرلائنس اور جی ایم أر کو پیچھے چھوڑتے ہوئے یہ کانٹریکٹ حاصل کیاہے ۔ تاہم ڈالمیا گروپ بھی ملک کی پہلی ایسی کمپنی بن گئی ہے جس نے کسی تاریخی عمارت کو اس کی دیکھ بھال کی زمہ داری لی ہے ۔کمپنی کو یہ کانٹریکٹ 25 کروڑ میں ملا ہے ۔

اڈاپٹ اے ہریٹیج پروجیکٹ گزشتہ برس صدر جمہوریہ کے زریعہ 17 ستمبر کو لانچ کیا گیا تھا۔ اس کے بعد متعدد کمپنیوں نے تاریخی عمارتوں کو گود لینے کی خواہش ظاہر کی تھی ۔ 24 اپریل کو ڈالمیا ہندوستان گروپ نے ڈیل سائن کی ۔ حالانکہ تاریخی عمارت کو گود دینے کے اس قدم پرحزب مخالف پارٹی کانگریس نے سخت اعتراض ظاہر کیاہے۔

کانگریس نے بی جےپی پر تنقید کرتے ہوئے ٹویٹر پر ایک پول پوسٹ کیاہے جس میں اس نے لوگوں سے رائے لی ہے کی بی جے پی أیندہ کون سی تاریخی عمارت کو لیز پر دیے گی اس ٹویٹر میں کانگریس نے جو آپشن دئے ہیں اس میں ’’ پارلیمنٹ، لوک کلیان مارگ، سپریم کورٹ شامل ہیں ‘‘۔

مصنف اور تاریخ ساز ولیم ڈیلریمپل نے بھی مذکورہ فیصلہ پر سوال اٹھاتے ہوئے ٹویٹ کیاہےکہ تاریخی عمارتوں کے رکھ رکھاو اور دیکھ بھال کے لئے اس سے بہتر طریقہ ہو سکتے تھے۔

کیا ہے ’’ اڈوپٹ اے ہریٹیج ‘‘ اسکیم ؟ مرکزی حکومت نے گزشتہ برس ستمبر ماہ میں یہ اسکیم لانچ کی تھی ۔ پورے ملک کی سو تاریخی عمارتوں کو اس کے لئے منتخب کیا گیا تھا۔ ان عمارتوں میں تاج محل، کانگڑا فورٹ، کونارک کا سوریہ مندر اور ستی گھاٹ کے ساتھ دیگر مخصوص مقامات شامل ہیں۔


Share: